کاروار12/دسمبر (ایس او نیوز)ضلع شمالی کینرا میں بارش کی قلت سے درپیش قحط سالی کا جائزہ لیتے ہوئے ضلع انچارج وزیر مسٹر آر وی دیشپانڈے نے افسران سے کہا کہ دسمبر کے مہینے میں ہی قحط سالی کی وجہ سے پینے کے پانی اور جانوروں کے چارہ کے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔ اس لئے راحت پہنچانے کا کام جنگی پیمانے پر شروع کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قحط زدہ علاقوں میں راحت رسانی کے لئے متعلقہ علاقوں کے تحصیلداروں کو خصوصی اختیارات تفویض کیے جارہے ہیں۔پانی اور جانوروں کے لئے چارہ کی فراہمی سرکار کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق کی جائے۔متاثرہ عوام کوکسی بھی قسم کی شکایت موقع ہرگز نہ دیا جائے۔ شدید ضرورت ہونے کی صورت میں ہی بورویل کی کھدائی کی جائے۔اور جہاں ٹینکروں سے پانی فراہم کرنا ہے وہاں جو اصول و ضوابط بتائے گئے ہیں لازمی طور پر اسی کے مطابق کارروائی انجام دی جانی چاہیے۔
مسٹر دیشپانڈے نے مزید بتایا کہ بارش کی قلت سے29298ہیکٹر زمین پر پھیلی فصلیں تباہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔جس سے 33995کسانوں کا نقصان ہوا ہے۔ایسے کسانوں کے بینک کھاتوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں اور سبسیڈی کی رقم جاری ہوتے ہی ان کسانوں کے کھاتوں میں جمع کردی جائے۔اس کے علاوہ کسانوں کوبھی چاہیے کہ وہ زیادہ تعداد میں فصلوں، جانوروں اور ٹریکٹروں کا بیمہ کروائیں تاکہ نقصان کی صورت میں انہیں زیادہ سے زیادہ مالی امداد مل سکے۔
اس میٹنگ میں ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر،نائب صدر سنتوش رینکے،سی ای او چندر شیکھر نائک،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایچ پرسنّاکے علاوہ مختلف محکمہ جاتی افسران موجود تھے۔